You can access the distribution details by navigating to My pre-printed books > Distribution
کتاب "زبانِ شیریں، ملک گیری" (مصنف: شمیم الدین خان) کا تفصیلی تعارف درج ذیل ہے:
1۔ کتاب کا مرکزی فلسفہ اور عنوان
اس کتاب کا عنوان فارسی کے ایک مشہور مقولے سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے کہ "میٹھی زبان سے پوری دنیا (مملکت) فتح کی جا سکتی ہے"۔ یہ محض ایک رومانوی داستان نہیں ہے، بلکہ اخلاقیات اور انسانی رویوں کا ایک گہرا فلسفہ ہے۔ کتاب اس خیال کو اجاگر کرتی ہے کہ جو کام تلوار یا زبردستی سے نہیں ہو سکتا، وہ خوش اخلاقی اور شیریں کلامی سے ممکن ہے۔
2۔ کہانی کا پس منظر اور خلاصہ
کہانی ایک ایسے دور اور ماحول کی عکاسی کرتی ہے جہاں طاقت، مکر اور تلخی کو کامیابی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ سلطان زور آور ایک ایسا حکمران ہے جو صرف تلوار کے زور پر یقین رکھتا ہے، جبکہ اس کے مدمقابل کہانی کا ہیرو ازلان ہے، جو اپنی زبان کی مٹھاس اور کردار کی بلندی سے لوگوں کے دل جیتنے کا قائل ہے۔
* ازلان کا کردار: ازلان انسانی وقار اور بے خوفی کی علامت ہے۔ وہ بادشاہوں کے سامنے بھی جھکنے کے بجائے سچائی اور نرمی سے گفتگو کرتا ہے۔
* شہزادی زویا: زویا ایک ایسی شہزادی ہے جو پہلے مادی طاقت پر یقین رکھتی تھی، لیکن ازلان کے خیالات اور اس کے کلام کی تاثیر سے متاثر ہو کر وہ "دلوں کی تسخیر" کے نظریے کو اپنا لیتی ہے۔
3۔ اہم موضوعات
* حقیقی فتح: مصنف کے مطابق اصل فتح زمین کے ٹکڑے جیتنا نہیں، بلکہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانا ہے۔
* محبت بمقابلہ نفرت: کتاب ان لوگوں کے نام منسوب ہے جو نفرت کی تپتی دوپہر میں محبت کی چھاؤں بانٹتے ہیں۔
* الفاظ کی طاقت: یہ سبق دیا گیا ہے کہ تلوار کے زخم بھر سکتے ہیں، لیکن میٹھے بول کا اثر ابدی ہوتا ہے۔
4۔ ادبی اسلوب
شمیم الدین خان نے اس کتاب میں کلاسیکی اردو اور خوبصورت تراکیب کا استعمال کیا ہے تاکہ زبان کی کھوئی ہوئی قدروں کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔ تحریر میں رومانوی چاشنی کے ساتھ ساتھ گہری دانشوری اور فکری بصیرت بھی موجود ہے۔
خلاصہ:
یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ "شیریں بیانی" وہ کیمیا ہے جو انسانوں کو مغلوب نہیں بلکہ مسخر کرتی ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ایک پائیدار اور پرامن معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے۔
کتاب "زبانِ شیریں، ملک گیری" کا مختصر خلاصہ (سمری) یہ ہے:
یہ کہانی ایک طاقتور فلسفے پر مبنی ہے کہ تلوار سے زمین تو جیتی جا سکتی ہے، مگر دل صرف میٹھے بول سے ہی فتح ہوتے ہیں۔
* مرکزی خیال: کتاب کا ہیرو ازلان، خوش اخلاقی اور شیریں کلامی کی علامت ہے، جبکہ سلطان زور آور مادی طاقت اور جبر پر یقین رکھتا ہے۔
* کہانی کا موڑ: سلطان، ازلان کو ایک مشکل مشن پر بھیجتا ہے جہاں فوج ناکام ہو چکی تھی۔ ازلان وہاں طاقت کے بجائے اپنی زبان کی مٹھاس اور اعلیٰ کردار سے لوگوں کو اپنا بنا لیتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ "شیریں بیانی" (خوش گفتاری) ہی وہ کیمیا ہے جو دشمن کو بھی دوست بنا دیتی ہے۔
* نتیجہ: کہانی کے اختتام تک شہزادی زویا اور خود سلطان پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ مستقل اور حقیقی بادشاہت وہی ہے جو انسانوں کے دلوں پر کی جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ بد اخلاقی اور تلخی شکست کا باعث بنتی ہے، جبکہ نرم گفتاری دنیا کو مسخر کرنے کا بہترین ہتھیار ہے۔
Currently there are no reviews available for this book.
Be the first one to write a review for the book زبان شیریں ملک گیری.