You can access the distribution details by navigating to My pre-printed books > Distribution
کتاب کا خلاصہ: حج - روحانیت کا سفر اور امت کی کربلا
یہ کتاب حج کی روحانی گہرائی، اس کی سماجی اخلاقیات اور فلسطین کے مظلوموں کے تئیں ہماری اجتماعی ذمہ داری کی واضح تصویر کشی ہے۔
کلیدی ابواب اور نظریات:
روحانی بیداری: مصنف کا خیال ہے کہ حج محض جسمانی سفر نہیں ہے بلکہ روح کی تطہیر کا ذریعہ ہے۔ البتہ یہ تزکیہ اسی وقت ممکن ہے جب کوئی دوسرے کے حقوق ادا کرے خواہ وہ میراث ہوں یا کاروبار۔ دوسروں کے حقوق غصب کر کے کیا جانے والا حج، خواہ وراثت سے ہو یا تجارت سے، بے اثر ہے۔
غزہ میں ظلم کا درد اور اس کی انتہا: کتاب میں غزہ میں مظلوموں پر ڈھائے جانے والے ظلم و بربریت کا بار بار ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف نے ان معصوم لوگوں کے دکھوں کو لفظوں میں بیان کیا ہے جو آج دور جدید کی سب سے بڑی نسل کشی کا شکار ہیں۔ غزہ کا ذکر یہاں صرف جغرافیائی محل وقوع کے طور پر نہیں بلکہ امت کے ایمان کے امتحان کے طور پر کیا گیا ہے۔
مسلم حکمرانوں کی "مجرمانہ" خاموشی: مصنف نے مسلم ممالک کے حکمرانوں کی خود غرضی اور بے حسی پر بڑی ڈھٹائی سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کتاب میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اپنے عہدے بچانے میں مصروف یہ حکمران کب تک غزہ کے بچوں کی خونریزی پر خاموش رہیں گے؟ مصنف کی نظر میں ان کی خاموشی ایک تاریخی جرم ہے۔
حج اور عالمی اتحاد: مصنف کے مطابق جب کوئی حاجی میدان عرفات میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ پوری دنیا کے مسلمانوں سے جڑ جاتا ہے۔ اس لیے غزہ کے مصائب سے آنکھیں چرانا حج کی روح کے خلاف ہے۔ کتاب حجاج کرام کو یاد دلاتی ہے کہ ان کی دعاؤں میں فلسطین کا نام ضرور شامل ہونا چاہیے۔
نظام اور حقیقت: کتاب ہندوستانی حج کمیٹی کے قابل ستائش کام (سستی حج کی فراہمی) کی تعریف کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ درمیانی طبقے کے عازمین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے منی خیمے جیسی خامیوں کو بہتر کرنے کے لیے دانشمندانہ مشورہ بھی پیش کرتی ہے۔
بنیادی پیغام:
یہ کتاب پڑھنے والے کے ذہن میں یہ سوچ چھوڑتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی عبادت میں کوتاہیوں کو معاف کر دے گا، لیکن وہ اپنے بندوں پر ظلم اور ان کے حقوق غصب کرنے کا حساب ضرور لے گا۔ چاہے آپ کے رشتہ داروں کے حقوق ہوں یا غزہ کے مظلوموں کے، جن کی مدد کے لیے آپ کے پاس وسائل تھے لیکن ہمت نہیں تھی۔
Currently there are no reviews available for this book.
Be the first one to write a review for the book Sada E Labbaik Urdu.